Holy Prophet

ولادت باسعادت کے بعد تین چار روز تک آپ کی والدہ ماجدہ نے آپ کو دودہ پلایا پھر آپ کے چچا ابو لہب کی آزاد کردہ کنیز ثوبیہ نے آپ کو دودہ پلایا۔

آپ کے چچا ابو لہب کو جب ثوبیہ نے آپ کی ولادت با سعادت کی خوشبری سنائی تو ابو لہب نے اس خوشی میں اسی وقت ثوبیہ کو آزاد کر دیا اور ثوبیہ ہی نے آپ سے پیشتر آپ کے سگے چچا حضرت حمزہ ؓ کو بھی دودہ پلایا تھا۔ اس لئے حمزہ ؓ آپ کے رضاعی بھائی ہیں اور آپ کے بعد ثوبیہ نے ابو سلمہ کو دودہ پلایا۔

صیحح بخاری شریف میں ام الموء منین ام حبیبہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے ایک بار رسول اکرم ﷺکی خدمت میں یہ عرض کیا کہ میں نے یہ سنا ہے کہ آپ ابو سلمہ کی بیٹی سے نکاح کا ارادہ رکھتے ہیں۔آپ نے بطور تعجب فرمایا کہ ام سلمہ کی بیٹی سے جو میری تربیت میں ہے اگر درہ میری رہبیہ نہ ہوتی تب بھی میرے لئے حلال نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ میری رضاعی بھتیجی ہے اس لئے کہ مجھ کو اور اس کے باپ ابو سلمہ کو ثوبیہ نے دودھ پلایا ہے۔ابن عباسؓ سے مروی ہے کے نبی اکرم ﷺنے عرض کیا گیا کہ اگرآپ حضرت حمزہ کی بیٹی سے نکاح فرمالیں تو کیسا ہے تو آپ نے فرمایا وہ میری رضاعی بھتجی ہے۔

ہمارے نبی اکرم محمد مصطفیﷺ کا سلسہ نسب جو عالم کے تمام سلاسل انساب سے اعلی اور برتر اور سب سے افضل اور بہتر ہے وہ سلسہ الذہب اور شجرۃ النسب یہ ہے۔

سیدناومولامحمد ﷺ بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان۔
حافظ عسقلانی فرماتے ہیں کہ امام بخاری نے اپنی جامع صحیح میں نسب شریف کے سلسہ کو فقط عدنان تک ذکر فرمایا۔مگر اپنی تاریخ میں حضرت ابراہیم ؑ تک سلسہ نسب کو ذکر فرمایا وہ یہ ہے۔
عدنان بن ادو بن المقوم بن تارح بن یشجب بن یعرب بن ثابت بن اسماعیل بن ابراہیم ؑ
عدنان تک سلسہ نسب تمام نسابین کے نزدیک مسلم ہے کسی کا اس سے اختلاف نہیں اوراعلی ہذا عدنان کاحضرت اسماعیل ؑ کی اولاد میں سے ہونا ہے یہ بھی سب کے نزدیک مسلم ہے۔
اختلاف اس میں ہے کہ عدنان سے حضرت اسماعیل تک کتنی پشتیں ہیں۔ بعض تیس بتلاتے اور بعض چالیس۔واللہ اعلم وعلمہ واتم واحکم۔
عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرمﷺ جب نسب شریف کو بیان فرماتے تھے تو عدنان سے تجاوز نہ فرماتے عدن تک پہنچ کر رک جاتے اور یہ فرماتے۔
کزب النسابون۔یعنی نسب والوں نے غلط کہا۔
یعنی ان کو سلاسل انساب کی تحقیق نہیں جو کچھ کہتے ہیں وہ بے تحقیق کہتے ہیں۔عبداللہ بن مسعودؓ اول اس آیت کو تلاوت فرماتے۔
وعادوثمود والذین من بعدھم لا یعلمھم الاللہ۔
اور پھر یہ فرماتے۔
کذب النسابون
نسب دین غلط کہتے ہیں۔
یعنی نسابین کا یہ دعوی کہ ہم کو تمام انساب کا علم ہے بالکل غلط ہے۔اللہ کے سوا کسی کو علم نہیں۔
علامہ سہیلی فرماتے ہیں کہ امام مالک سے سوال کیا گیا کہ کسی شخص کا اپنے سلسہ نسب کو حضرت آدم تک پہنچا نا کیسا ہے؟ تو ناپسند فرمایا۔سائل نے پھر حضرت اسماعیل ؑ تک سلسہ نسب پہنچانے کے متعلق دریافت کیا تو اس کو بھی ناپسند فرمایا اوریہ کہا۔
من یخبر ہ بہ
کس نے اس کی خبر دی

حضرت عبداللہ کا حضرت آمنہ سے نکاح

عبدالمطلب جب عبداللہ کے فدیہ سے فارغ ہوئے تو شادی کی فکر و امن گیر ہوئی۔قبیلہ بنی زہرہ جو اشرفیت نسبی میں ممتازتھا اس میں وہب بن عبدمناف کی صاحبزادی سے جن کا نام آمنہ تھا اور اپنے چچا وہیب بن عبدمناف کی زیر تربیت تھیں،ان سے حضرت عبداللہ کے نکاح کا پیام دیا اور خود وہیب (حضرت آمنہ کے چچا)کی صاحبزادی جن کا نام ہالہ تھا ان سے عبدالمطلب کے خود اپنے نکاح کا پیام دیا۔ایک ہی مجلس میں دونوں نکاح پڑھے گئے۔حضرت حمزہ ؓ انہی کے بطن سے ہیں جو رشتہ میں چچا بھی ہیں اور رضاعی بھائی بھی۔

ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب عبدالمطلب اپنے فرزند عبداللہ کو نکاح کے لئے لے کر چلے تو راستے میں ایک یہودی عورت پر گزر ہوا جس کا نام فاطمہ بنت مر تھا اور توریت و انجیل سے بخوبی واقف تھی۔حضرت عبداللہ کے چہرے میں نور نبوت دیکھ کر اپنی طرف بلایا اور یہ کہا میں تجھ کو سو اونت نذر کروں۔ حضرت عبداللہ نے جواب میں یہ اشعار پڑھے۔

اما الحرام فالممات دونہ
و الحل لا حل فا ستبینہ

حرام کے ارتکاب سے موت آسمان ہے اور ایسا فعل بالکل حلال نہیں جس کو معرض ظہور میں لا سکون

فکیف بالامر الذی تبغینہ
یحمی اکریم عرضہ ودینہ

جس ناجائز امر کی تو طلب گار ہے وہ مجھ سے کیسے ممکن ہے۔کریم النفس آدمی تو اپنی ابرو اور اپنے دین کی پوری حمایت اور حفاظت کرتا ہے۔
حضرت عبداللہ جب حضرت آمنہ سے نکاح کر کے واپس ہوئے تو واپسی میں پھر اسی عورت پر گزر ہوا تو اس نے دریافت کیا اے عبداللہ تم یہاں سے جانے کے بعد کہاں رہے۔حضرت عبداللہ نے کہا میں نے اس عرصہ میں وہب بن عبد مناف کی صاحبزادی آمنہ سے نکاح کیا اور نکاح کے بعد تین چار روز وہاں قیام کیا۔ اس یہودی عورت نے سن کر یہ کہا کہ واللہ میں کوئی بدکار عورت نہیں۔تمھارے چہرے میں نور نبوت دیکھ کر یہ چاہا تھا کہ یہ نور میری طرف منتقل ہی جائے،لیکن اس نے جہاں چاہا وہاں اس نور کو ودیعت کیا۔

یہ روایت دلائل اب نعیم میں چار طریقوں سے اور طبقات ابن سعد میں تین طریقوں سے مذکور ہے۔ جس کے بعض راوی ضعیف بھی ہیں لیکن جو روایت اس قدر مختلف طریقوں سے مروی ہو بالفرض اس روایت کی ہر سند کا ہر راوی بھی فرد افرداضعیف ہو تب بھی محدثین کے نزدیک مقوبل ہے۔

sunni

Leave a Reply

Required fields are marked*