Ghazwa-e-Suyq

غزوہ سویق:بدر سے جب مشرکین کا ہز یمت خور لشکر خائب وخاکسر مکہ پہنچا تو ابو سفیان بن حرب نے یہ قسم کھائی کہ جب تک مدینہ پر حملہ نہ کر لوں گا تو اس وقت تک غسل جنابت نہ کروں گا۔
چناچہ اس قسم کو پورا کرنے کے لیے شروع ذی الحجہ میں دو سواریوں کو ہمراہ لے کر مدینہ کی طرف روانہ ہوامقام عریض میں پہنچ کر جو مدینہ سے تین میل کے فاصلہ پر ہے ایک کھجور کے باغ میں گھسے ،وہاں شخص زراعت کے کام میں مصروف تھے ۔ایک شخص انصار میں سے تھا اور دوسرا اجیر تھا دونوں کو قتل کیا اور کچھ درخت جلائے اور سمجھے کہ ہماری قسم پوری ہوگئی اور بھاگ گئے
رسول اکرمﷺ کو جب علم ہوا تو بتایخ ۵ذی الحجہ یوم یکشنبہ دو سو مہاجرین اور انصار کو لے کر ابوسفیان نے تعاقب میں روانہ ہوئے ،مگر کوئی ہاتھ نہ آیا ۔یہ لوگ پہلے ہی نکل بھاگئے تھے۔ چلتے وقت بوجھ ہلکا کرنے ستو کے جو تھیلے ہمراہ لائے تھے وہ چھوڑ گئے تھے جو مسلمان کو ہاتھے آئے اس لئے اس غزوہ کا نام غزوہ سویق ہے یعنی ستو والا غزوہ

sunni

Leave a Reply

Required fields are marked*