حلیہ نبوی

حلیہ نبوی:
آنحضرت ﷺ نہ زیادہ لمبے تھے اور نہ پست قد،میانہ قدتھے،سر بڑا تھا،ریش مبارک گھنی تھی،آپ ﷺ کے سر مبارک اور ریش مبارک میں گنتی کے تقریبا بین پچیس بال سفید تھے،چہر ہ انور خوبصورت اور نورانی تھا،جس نے بھی آپ کا چہر ہ انور دیکھا ہے اس نے حضورﷺ کے چہر ہ انور کو چودھویں رات کے چاند کی طرح منور بیان کیا ہے۔
آپ ﷺ کے پسنہ میں ایک خاص قسم کی خوشبوتھی،چہرہ انور سے جب پسینہ ٹپکتا تو موتیوں کی طرح معلوم ہوتا،حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے دیباج اور حریر کو آپ ﷺ کی جلد زیادہ نرم نہیں دیکھااور مشک وعنبر میں آپ کے بدن معطر سے زیادہ خوشبو نہیں سونگھی۔
دونوں شانوں کے درمیان دائیں شانہ کے قریب مہر نبوت تھی،صحیح مسلم میں ہے کہ حضورپر نور ﷺ کے دو شانوں کے درمیان میں ایک سرخ گوشت کا ٹکڑا کبوتر کی مانند تھا۔
یہ مہر نبوت آنحضرت ﷺ کی نبوت کی خاص نشانی تھی جس کا ذکر کتب سابقہ اور انبیا ء سابقین کی بشارتوں میں تھا،علماء بنی اسرائیل اسی علامت کو دیکھ کر پہچان لیتے تھے کہ حضورﷺ نبی آخری الزمان ہیں کی جن کی انبیاء سابقین نے بشارت دی ہے اور جو علامت (مہر نبوت)بتلائی تھی وہ آ پ میں موجو د ہے،گویا یہ مہر نبوت کے لئے من جانب اللہ خدا تعالی کی مہر اور سند تھی۔

علامہ سہیلی فرماتے ہیں کہ مہر نبوت حضور ﷺکے بائیں شانہ ہڈی کے قریب تھی۔وجہ اس کی یہ کہ جسم انسانی میں شیطان کے داخل ہونے کی یہی جگہ ہے پیچھے ہی سے آکر شیطان دل میں وسوسے ڈالتا ہے،اس لئے آپ کے جسم مبارک میں اس جگہ مہر نبوت لگائی گئی تا کہ شیطان کی آمد کا دروازہ بند ہو جائے اور آپ کے قلب منور میں کسی راہ سے شیطان کا کوئی وسوسہ نہ داخل ہو سکے۔
اور بعض رویات میں ہے کہ حضورپر نور ﷺ کی پشت مبارک پر جو مہر مبارک تھی اس میں قدرتی طور پر محمد رسول اللہ لکھا ہوا معلوم تھا۔
حافظ ابن عسا کر اور حاکم نے تاریخ نیسا ر پور میں ابن عمر ؓسے روایت کیا ہے کہ مہر نبوت آنحضرت ﷺ کی پشت پر گوشت کی بوٹی کی طرح تھی اور گوشت ہی سے (قدرتی طور پر)اس میں محمد لکھا ہواتھا۔

سر کے بال اکژ مونڈے تک اور کبھی نرم گوشہ تک لٹکے رہتے تھے۔بالوں میں کنگھی بھی کرتے تھے اور آنکھوں میں سرمہ بھی ڈالتے تھے باوجود یکہ آنکھیں قدرتی طور پر سرمگیں تھیں۔
آپ کی آنکھیں نہایت خوشنما اور کشادہ تھیں،خوب سیاہ اور سرخی مائل تھیں،سینہ سے لے کر ناف تک ایک نہایت خوبصورت باریک خط تھا،دونوں بازو اور قد مین گوشت پر تھے۔حضور پر نور ﷺ جب چلتے تھے تو ایسا معلوم ہوتا گویا کہ پاؤں جما کر اٹھاتے ہیں اور اوپر سے نیچے کی طرف جا رہے ہیں۔الغرص آپ کا جسم اطہر اور چہر ہ انور تمام ظاہری اور باطنی محاسن سے مزین تھا،سوائے مسکرانے کے کبھی بھی کھل کھلا کے کر نہیں ہنستے،حدیث میں ہے کہ صورت اور سیرت میں آپ سب سے زیادہ حضرت ابراہیم ؒ کے مشابہ تھے۔

ریش مبارک: ریش مبارک یعنی ڈاڑھی آپ کی گھنی تھی۔آپ اسے بالکل کترواتے نہ تھے،البتہ مونچھیں کترواتے تھے مگر گاہ بگاہ جو بال زائد ہو جاتے تھے ان کو کتروا بھی دیتے تھے تا کہ صورت بدنما نہ معلوم ہو،چونکہ ڈاڑھی تمام انبیا ء ومرسلین کی سنت تھی معاذ اللہ ملکی اور قومی رواج کی بنا پر نہ تھی جیسا کہ بعض گمراہوں اور نادانوں خیال کا ہے۔

ڈاڑھی صرف سنت محمدیہ اور طریقہ اسلام ہی نہیں بلکہ تمام پیغمبروں (جن کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے) کی سنت ہے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے
یعنی ڈاڑھی تما م انبیاء ومرسلین کی سنت ہے۔

لباس نبوی ﷺ: آنحضرت ﷺ کا لباس نہایت سادہ اور معمولی ہوتا تھا،فقیرانہ اور درویشانہ زندگی تھی،عام لباس آپ کا تحمد،چادر،کرتہ،جبہ اور کمبل تھاجس میں پیوند لگا ہوتا تھا۔آپ کو سبز لباس پسند تھا آپ کی پوشاک عموما سفید ہوتی تھی۔
چادر: یمنی چادر جس پر سبز اور سرخ خطوط ہوں آپ کو بہت مرغوب تھی جو بردیمانی کے نام سے مشہور تھی،خالص سرخ سے منع
ٹوپی: سر سے چپٹی ہوئی ہوتی تھی اور اونچی ٹوپی کبھی استعمال نہیں فرمائی،ابو کبثہ انماری سے مروی ہے کہ اصحابہ کرام کی ٹوپیاں چپٹی سر سے لگی ہوتی تھیں،اونچی نہیں ہوتی تھیں۔
عمامہ:آنحضرت ﷺ عمامہ کے نیچے ٹوپی کا التزم رکھتے تھے،فرماتے ہیں کہ ہم میں اور مشرکین مین بھی فرق ہے کہ ہم ٹوپیوں پر عمامہ باندھتے ہیں۔ حضور ﷺ پر نور جب عمامہ باندھتے تو اس کا شملہ دو شانوں کے درمیان لٹکا لیتے اور کبھی تحت الحنک ٹھوڑی کے نیچے لپیٹ لیتے،حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حق تعالیٰ نے جنگ بدر میں اور جنگ حنین میں میری امداد کے لئے ایسے فرشتے اتارے جوعمامہ باندھے ہوئے تھے،جس کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے۔ بخمسہ الاف الملائکتہ مسومین۔

پاجامہ:حدیث میں ہے کہ آپ نے منیٰ کے بازار میں پاجامہ بکتا ہو ادیکھا،دیکھ کر اسے پسند فرمایا کہ اس میں بہ نسبت ازار کے تستر زیادہ ہے اور اس کر خرید فرمایا۔لیکن استعمال ثابت نہیں۔
قمیص:پیراہن آپ کو بہت محبوب تھا،سینہ پر اس کا گریبان تھا،کبھی کبھی اس کی گھنڈیاں کھلی ہوئی ہوتی تھی۔
لنگی:آپ کے تمام کپڑے ٹخنوں سے اوپر رہتے تھے۔بالخصوص آپ کا تحمد آدھی پنڈلی تک ہوتا تھا۔
موزے:موزے بی استعمال فرماتے تھے اور پرمسح فرماتے۔
گدا: آپ کا گدا ایک چمڑا کا ہوتا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوتی تھی اور بسا اوقات حضور پر نور ﷺ ایک بورئیے پر سویا کرتے تھے۔حصیر (بوریا)آپ کا بستر تھا۔
انگھوٹھی:وسعت مبارک میں چاندی کی انگھوٹھی بھی استعمال فرماتے تھے،آنحضرت ﷺ نے جب قیصر روم اور نجاشی شاہ حبشہ وغیرہ کو عوت اسلام کے خطوط لکھنے کا ارادہ فرمایا کہ سلاطین بدون مہر کے کوئی تحریر قبول نہیں کرتے،اس لئے آپ نے چا ندی کی ایک انگھوٹھی بنوائی جس میں تین سطروں میں اوپر نیچے محمد رسول لکھا ہوتا تھا۔
نعلین مبارک: نعلین مبارک چپل کے طرز کے ہوتے تھے کہ جس میں نیچے کی طرف ایک تلا لگا ہوتا تھا اور اوپر دو تسمے لگے ہوتے تھے،جن میں انگلیاں ڈال لیتے تھے۔

sunni

Leave a Reply

Required fields are marked*